Kisi azeez ki wafat ka gham hi kya kam hota hai ke pardes se mayyat ki wapsi ka marhala aur bhi sangeen bana diya jata hai.
Kya aapne kabhi socha hai ke jo mayyatein kayi kayi din tak sard khanon mein manfi darja hararat par rakhi jati hain, unke liye yeh amal kitna takleef deh hoga? Yeh woh aziyat hai jo bazahir mohabbat mein ki jati hai, magar haqeeqat mein yeh is duniya se rukhsat hone wale apne pyaron ke liye ghair-iradi tor par ek saza ban jati hai.
European Mumalik Mein Embalming Ka Zaroori Amal
Embalming Ke Dardnaak Marahil
- Mayyat ko barahna kiya jata hai.
- Galay ki bari sharyan ko kaat kar cannula dakhil kiya jata hai taake chemical poore jism mein phail saken.
- Khoon nikalne ke liye taang ke jor ke qareeb ek aur sharyan ko kaata jata hai.
- Pait aur seena cheer kar andaruni azaa ko puncture kiya jata hai, phir chemical bhar kar jism ko dobara seal kiya jata hai.
- Munh band karne ke liye goond ya silai ki jati hai.
Kya Aakhri Deedar Ki Zid Jayaz Hai?
Islami Taleemat Aur Tadfeen Ki Asal Ahmiyat
Dua Aur Iltija
کسی عزیز کی وفات کا غم ہی کیا کم ہوتا ہے کہ پردیس سے میّت کی واپسی کا مرحلہ اور بھی سنگین بنا دیا جاتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جو میّتیں کئی کئی دن تک سرد خانوں میں منفی درجۂ حرارت پر رکھی جاتی ہیں، اُن کے لیے یہ عمل کتنا تکلیف دہ ہوگا؟ یہ وہ اذیت ہے جو بظاہر محبت میں کی جاتی ہے، مگر حقیقت میں یہ اس دنیا سے رخصت ہونے والے اپنے پیاروں کے لیے غیر ارادی طور پر ایک سزا بن جاتی ہے۔
یورپی ممالک میں ایمبالمنگ کا ضروری عمل
دردناک بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ جب یورپی ممالک سے کسی میّت کو پاکستان لایا جاتا ہے تو ایک ضروری عمل ایمبالمنگ (Embalming) سے گزرنا پڑتا ہے۔
اس عمل میں میّت کے جسم سے خون اور دیگر مادّے نکال کر ایسے کیمیکلز داخل کیے جاتے ہیں جو اسے جراثیم سے محفوظ رکھ سکیں۔
مگر اس کا انسانی وقار پر کیا اثر پڑتا ہے؟
ایمبالمنگ کے دردناک مراحل
یہ تفصیل اس لیے بیان کی گئی ہے تاکہ آپ اُس بے حرمتی کو محسوس کریں جو صرف “آخری دیدار” یا دنیا کی واہ واہ سمیٹنے کی خاطر ایک میّت کے ساتھ کی جاتی ہے:
- میّت کو برہنہ کیا جاتا ہے۔
- گلے کی بڑی شریان کو کاٹ کر کینولا داخل کیا جاتا ہے تاکہ کیمیکل پورے جسم میں پھیل سکیں۔
- خون نکالنے کے لیے ٹانگ کے جوڑ کے قریب ایک اور شریان کو کاٹا جاتا ہے۔
- پیٹ اور سینہ چیر کر اندرونی اعضاء کو پنکچر کیا جاتا ہے، پھر کیمیکل بھر کر جسم کو دوبارہ سیل کیا جاتا ہے۔
- منہ بند کرنے کے لیے گوند یا سلائی کی جاتی ہے۔
کیا آخری دیدار کی ضد جائز ہے؟
کیا صرف “آخری دیدار” کی خاطر — یا لوگوں کو دکھانے کے لیے — اپنے پیاروں کو اس اذیت سے گزارنا واقعی ضروری ہے؟
کیا بڑے جنازے کا رواج، یا دنیاوی تعریف و توصیف، واقعی اس شخص کی آخرت میں عزت بن سکتی ہے؟
یا پھر ہم روایات اور نمائش کی خاطر میّت کے آخرتی سفر کو مزید تکلیف دے رہے ہیں؟
اسلامی تعلیمات اور تدفین کی اصل اہمیت
یاد رکھیں:
جنازہ صرف اتنی دیر رُکنا چاہیے جتنی قبر کی تیاری اور تدفین کے لیے ضروری ہو۔
اگر کوئی قریبی شخص دُور ہو تو وہ میّت کے لیے وہیں سے دعا کرے، صدقہ دے — مگر صرف آخری دیدار کی ضد میں میّت کو مزید تکلیف نہ دے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق:
جس کی موت جہاں لکھی ہے، وہیں اس کا دفن بہتر ہے، اگر کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو۔
دعا اور التجا
آخر میں، اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے:
یا اللہ! ہمیں موت، قبر اور آخرت کی حقیقت کو سمجھنے، اپنے پیاروں کے لیے صحیح فیصلے کرنے، اور ان کی حرمت و وقار کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اور ہمارے مرحومین پر رحمت نازل فرما، ان کی مغفرت فرما، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اور ان کے آخرت کے سفر کو آسان فرما۔
❣️🤲🏻 آمین یا ربّ العالمین 🤲🏻❣️
— ᕼᗷ ᗯᖇITEᔕ ✍🏻

